مرکزی سرکار تن تنہا دہشت گردی کا تدارک نہیں کرسکتی ۔ فاروق عبداللہ

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /         مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مرکزی سرکار تن تنہا دہشت گردی کا تدارک نہیں کرسکتی ہے ۔ انہوں نے بغیر مشاورت این سی ٹی سی کے قیام کی کوشش کو غلطی قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام ریاستوں کو اعتماد میں لیکر اس غلطی کو ٹھیک کیا جائیگا۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت بھی مرکزی سرکار کو اس معاملے پر اپنے موقف سے آگاہ کرے گی ۔اس دوران ڈاکٹر فاروق نے ریاست میں برسر اقتدار مخلوط سرکار کے اندر مکمل ہم آہنگی اور تال میل کا دعویٰ کرتے ہوئے پارٹی سے وابستہ ممبران اسمبلی پر زور دیا کہ وہ ’کولیشن دھرم ‘ کا ہر صورت میں احترام کریں۔ انہوںنے ریاستی وزراءپر زور دیا کہ وہ مخلوط سرکار کے ترقیاتی ، تعمیراتی اور فلاحی کاموں کو اسمبلی اجلاس کے دوران اجاگر کریں۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر فاروق نے حکمران اتحاد سے وابستہ ممبران اسمبلی سے تلقین کی کہ وہ اپوزیشن ممبران کے اکسانے پر ایوان میں کسی بھی طرح کی ہنگامہ آرائی سے احتراض کریں۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے اس موقف کہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کے قیام کو لیکر مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے مابین مشاورت ہونی چاہیے ، کی تائید کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے نئی و قابل تجدید توانائی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں کے ساتھ ایک بات چیت کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ مرکزی سرکار دہشت گردی کے چیلنج کا اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ ساتھ امن و خوشحالی کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے ، اس لئے اس لعنت کا تدارک کرنے کیلئے مرکزی اور ریاستوں کے درمیان مکمل تال میل ہونا چاہیے۔انہوں نے بغیر مشاورت این سی ٹی سی کے قیام کی کوشش کو غلطی قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام ریاستوں کو اعتماد میں لیکر اس غلطی کو ٹھیک کیا جائیگا ۔ ایک نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ این سی ٹی سی کے قیام اور دہشت گردی کے تدارک کی خاطر مرکزی سرکار کو تمام ریاستوں کی مکمل حمایت حاصل کرنی چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر مرکزی سرکار اس کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو لازمی طور اس بارے میں قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی اور تال میل ہونا لازمی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ مرکزی سرکار کے کسی بھی قدم کو ریاستوں میں ہی عملایا جاتا ہے اس لئے ضروری بن جاتا ہے کہ تمام ریاستوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا جائے ۔ کے این ایس کے مطابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان مکمل اتحاد و اتفاق ہونا چاہیے اور اگر کسی معاملے یا اقدام پر غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے تو اس کو دور کرنا مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔این سی ٹی سی کے قیام کے معاملے پر ایک درجن سے زیادہ ریاستوں کے وزراءاعلیٰ کی طرف سے ظاہر کردہ تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کی وکالت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے Read more...

 

سرےنگر جموں شاہراہ پھر سے بند عوام تشوےش مےں مبتلا ۔ حکومت کا کچھ اتہ پتہ نہےں

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             ٹنل کے آر پار موسلادھار بارشوں اور تیز ہواﺅں کے نتیجے میںکئی مقامات پر چٹانیں کھسکنے اور پسیاں گر آنے کے باعث سرینگر ،جموں قومی شاہراہ کو ہنگامی طور ٹریفک کی آمدورفت کیلئے پھر بند کردیا گیا جبکہ بدھ کی صبح درماندہ مسافر و مال بردار گاڑیوں کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ادھر سونمرگ کے گنڈ راجواری علاقہ میں ایک درجن کوٹھہار برف کے نیچے دب گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس دوران صوبائی انتظامیہ نے ایک بار پھر اوپری علاقوں میں پسیاں،چٹانیں اور برفانی تودے گر آنے کی وارننگ جاری کی ۔ادھر بالائی علاقوں میں تازہ برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے سڑکیں اور بازار زیر آب آگئے اور لوگوں کو عبور ومرور میں کافی دشواریوں کا سامنا کر نا پڑرہا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ کئی روز سے جاری مسلسل موسلادھار بارشوں اور تیز ہواﺅں کے نتیجے میں سرینگر ،جموں شاہراہ کو مکمل طور پر ٹریفک کی نقل وحرکت کےلئے انتظامیہ نے بند کردیا اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہدایت سے قبل شاہراہ پر سفر نہ کریں ۔معلوم ہوا کہ گذشتہ روز سے جاری موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں سرینگر ،جموں شاہراہ پر پانتھال ،رام سو اور شیطان نالہ کے مقام پر بھاری چٹانیں اور پسیاں گر آئی ہےںاور شاہراہ کو احتیاط کے بطور پر ٹریفک کی آوا جاہی کےلئے بند کردیا گیا۔اس دوران اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ شاہراہ کو ٹریفک کی آواجاہی کےلئے بند کرنے کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں کئی ایک مقامات پر درماندہ ہو کر رہ گئی ہےں۔اس سلسلے میں بارڈر روڑس آرگنائزیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے بتا یا کہ شاہراہ پر کئی ایک مقامات پر پسیاں گر آئی ہیں جسکے نتیجے میں شاہراہ کو ٹریفک کی آواجاہی کےلئے بند کردیا گیا تاہم بیکن عملہ تیزی کے ساتھ شاہراہ کوقابل آمد ورفت بنانے کےلئے کا م کر رہا ہے اور چٹانوں اور ملبے کو شاہراہ سے ہٹا نے کےلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔تاہم بدھ کی دوپہر تک بند پڑی شاہراہ کو دوبارہ کھول دیا گیا جس دوران کئی ایک مقامات پر درماندہ پڑی سینکڑوںمسافر اور مال بردار گاڑیوں کوسرینگر سے جموں کی طرف روانہ کردیا گیا۔شاہراہ پر ٹریفک کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ’ڈی ایس پی ٹریفک ‘ فاروق احمد خان نے کے این ایس کو بتا یا کہ موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی درماندہ پڑی 700بڑی مسافر و مال بردار اور 250چھوٹی گاڑیوں کو سرینگر سے جموں کی طرف روانہ کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر قائم ٹریفک پولیس کنٹرول روم نے اطلاع دی ہے کہ ٹنل کے آر پار دوبارہ موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں شاہراہ کو دوبارہ ٹریفک کی آمد ورفت کےلئے بند کر دیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام شاہراہ پر کسی بھی حادثے کو ٹالنے کےلئے کیا جارہا ہے لہٰذا اس ضمن میں کوئی بھی کو تائی نہیںبرتی جارہی ہے۔اس دوران کے این ایس نمائندوں نے مختلف اضلاع سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتا یا کہ میدانی علاقوں میں مسلسل بارشوں جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ کئی روز سے سیاحتی مقام سونہ مرگ میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں سیاحتی مقام سفید چادر سے ڈھک گئی ہے۔نمائندے کے مطابق گڈ بل سونہ مرگ میں 7سے لیکر8فٹ برف ریکارڑ کی گئی Read more...

 

خونریز معرکہ آرائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ سرکردہ کمانڈر جاں بحق

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             شمالی قصبہ سوپور میں 18گھنٹوں تک جاری رہنے والے خونریز معرکہ آرائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ سرکردہ کمانڈر جاں بحق ہوا جبکہ آپسی تصادم آرائی میں ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔ اس دوران فوج اور فورسز نے ابو عکاشہ کی طرف سے بطور کمین گاہ استعمال کئے گئے مکان کو بارود سے اڑا دیا ۔ ادھر پورے قصبہ میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ تناﺅ اور کشیدگی کا عالم بھی دیکھنے کو ملا ۔ کشمیر نیو زسروس کے مطابق شمالی قصبہ سوپور میں فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین تصادم آرائی سے گذشتہ روز اُس وقت پورا قصبہ گونج اٹھا جب فوج ، سی آر پی ایف ، ٹاسک فورس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران مومن آباد نوپورہ کا محاصرہ کیا اور جنگجوﺅں کی تلاش کیلئے پورے علاقے کو گھیرے میں لیا ۔ اس دوران مشتاق احمد نجار ولد غلام محمد ساکنہ مومن آباد نوپورہ کے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں اور فوج و فورسز اہلکاروں کے درمیان باضابطہ طور پر معرکہ آرائی شروع ہوئی جبکہ ابتداءمیں ہی فوج کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔ اس دوران پورا قصبہ گولیوں کی گن گرج سے گونج اٹھا جبکہ بیشتر لوگ گھروںمیں چھپے رہے ۔ ادھر جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کی وجہ سے پورے قصبہ میں کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول دیکھنے کو ملا اور یہ کہ فورسز اہلکاروںنے پورے قصبہ کو احتیاطی طور پر گھیرے میں لیا ۔ ادھر نمائندے کے مطابق اندھیرے کی وجہ سے آپریشن کو رات بھر کیلئے موخر کیا تاہم صبح کی پلی کرن چھوٹنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر خون ریز تصدام شروع ہوا جبکہ مکان میں چھپا بیٹھا جنگجو نوجوان وقفے وقفے سے فورسز پر گولایں برسا رہا تھا ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس دوران فوج اور فورسز کے دوسرے ایجنسیوں نے اُس مکان پر بارود نصب کیا جہاں پر مذکورہ جنگجو چھپا بیٹھا ہوا تھا جس کے بعد ایک زور دار دھماکے Read more...

 

اپنی مدد آپ کرنے والے نوجوانوں کو تو اور تم کا سامنا

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             اپنی مدد آپ کرنے والے نوجوانوں کو تو اور تم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ مختلف ترقیاتی اور تعمیراتی کام مکمل کرنے کے باوجود افسران بل واگذار کرنے میں روڑے اٹکارہے ہیں ۔ رفیع آباد بارہمولہ کے ایک گروپ نے اے سی ڈی بارہمولہ پر اسی طرح کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے متعلقہ ممبر اسمبلی و ممبر پارلیمنٹ کی طرف سے اپنے اپنے کانسٹی چیونسی فنڈ میں سے مختلف کاموں کیلئے رقومات واگذار کیں اور جب کام مکمل ہوئے تو متعلقہ اعلیٰ افسر نے بلیں واگذار کرنے سے انکار کردیا۔ ڈنگی وچہ رفیع آباد سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں زین العابدین ، ریاض احمد میر ، بشیر احمد ڈار ، عبدالرشید اور عبدالقیوم شاہ نے کے این ایس کو بتایا کہ بے روزگاری کا علاج کرنے کیلئے انہوںنے اپنا ایک گروپ قائم کیا تاکہ وہ اپنی مدد آپ کرسکیں۔ ان نوجوانوںنے بتایا کہ ممبر اسمبلی اور ریاستی وزیر جاوید احمد ڈار کے علاوہ ممبر پارلیمنٹ شریف الدین شارق نے اپنے کانسٹی چیونسی فنڈ سے مختلف ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کیلئے رقومات واگذار کردیںجس کے بعد بلاک ڈیولپمنٹ محکمہ ڈنگی وچہ نے علاقہ میں مختلف تعمیراتی ، ترقیاتی اور فلاحی کام سیلف ہیلپ گروپ میں شامل نوجوانوں کو الاٹ کردئیے ۔ انہوںنے بتایا کہ ممبر اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ کے کانسٹی Read more...

 

معذور افراد ماہانہ وظےفوں سے محروم

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             وادی بھر مےں ہزار وں معذورافراد محکمہ سوشل وےلفےر کی طرف سے ماہانہ وظےفہ حاصل کررہے ہےںجبکہ گذشتہ تےن برسوں سے محکمہ کو حکومت کی طرف سے کوئی رقومات واگذار نہےں کئے گئے جسے معذور افراد مےں تشوےش کی لہر دوڈ گئی ہے ۔کے اےن اےس کو زرائع سے معلوم ہواہے کہ پوری وادی مےںحالےہ جانچ کے بعد ہزار وں مردو زن محکمہ سوشل وےلفےر کی طرف سے ماہانہ وظےفہ حاصل کررہے ہےں جس مےں معذور ،لنگڑے اور دےگر اولڈ اےج بھی شامل ہے جنہےں محکمہ کی طرف سے ماہانہ 2 سو سے لےکر 1 ہزار تک وظےفہ دےا جاتا ہے ۔زرائع نے بتاےا کہ اس مےں سے کپوارہ ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ اور اسی طرح دےگر اضلاع مےں بھی ہزاروں لوگ ےہ وظےفہ حاصل کررہے ہےں۔کئی بزرگوں نے نمائندے کو بتاےا کہ گذشتہ تےن برسوں کے دوران انہوں نے وظےفے کےلئے فارم بھر دےے ہےں لےکن محکمہ کی طرف سے انہےں پنشن واگذار نہےں کی جاتی جس کے نتےجے مےں وہ دوائی کےلئے بھی محروم ہوگئے ہےں جبکہ انہےںوظےفے سے محروم ہوکر شدےد مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔اس دوران محکمہ کے زرائع نے بتاےا کہ حکومت کی طرف سے گذشتہ تےن برسوں سے ان لوگوںکے لئے رقومات کی بھی قسط واگذار نہےں کی گئی جس سے انہےں وظےفہ واگذار نہےں کےا جاتاتاہم وہ اس کے لئے کوششےں کر رہے ہےں۔مقامی وفد نے بتاےا کہ رقومات واگذار نہ ہونے کے نتےجے مےں انہےں شدےد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کےا کہ متاثرےن کےلئے معاوضہ فراہم کےا جائے تاکہ انہےں محکمہ سوشل وےلفےر کے دفاتر کے چکر کاٹنے نہ پڑے اور ان کے مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔

 

میرواعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ دلی مےں سفارتکارں سے تبادلہ خےال کرےنگے۔

 

سرینگر/21فروری /کے این ایس /            میرواعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی حریت وفد سفارتی مشن کے تحت نئی دہلی میں کئی غیر ملکی سفارتکاروں اور سیول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گا۔ اس سلسلے میں فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ 22فروری کو سرینگر سے نئی دہلی روانہ ہونگے جبکہ میرواعظ عمر فاروق پہلے ہی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔ کشمیر نیوز سروس کو حریت کانفرنس (ع) کے ذرائع نے بتایا کہ مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ وادی کشمیر میں عوامی رابطہ مہم میں سرعت لانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے زور دار سفارتی مہم شروع کی جائے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ لیا گیا کہ حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق اور سینئر لیڈر شبیر احمد شاہ 22فروری سے نئی دہلی کا دورہ کریں گے اور وہاں قیام کے دوران دونوں سینئر حریت لیڈران مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے ۔ اس بارے میں سینئر حریت لیڈر اور فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے کے این ایس کو بتایا کہ یہ کئی برسوں کے بعد ان کا پہلا دلی دورہ ہوگا کیونکہ آخری مرتبہ وہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے ساتھ ملاقات کیلئے نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفارتخانہ گئے تھے ۔ انہوںنے بتایا کہ وہ اور میرواعظ عمرفاروق دہلی میں اپنے قیام کے دوران مختلف ممالک کے سفارتکاروں کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی پہلوﺅں اور اس دیرینہ تنازعہ کے فوری حل کی ضرورت کے بارے میں جانکاری فراہم کریں گے ۔ شبیر احمد شاہ Read more...

حریت کانفرنس نے مشن کشمیر کو لیکر اپنی سفارتی مہم شروع کردی ۔ حرےت (ع)

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             میرواعظ کی قیادت والی حریت کانفرنس نے مشن کشمیر کو لیکر اپنی سفارتی مہم شروع کردی جسکے تحت اعلیٰ سطحی سہ رکنی وفد نے نئی دہلی میں ایرانی سفیر کیساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس دوران حریت(ع) نے ایک مقامی اخبار میں شائع رپورٹ کو صحافتی آزادی کے غلط استعمال سے تعبیر کرتے ہوئے واضھ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نہ تو التوا ءمیں ڈالا جاسکتا اور نہ سرد خانے میں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا فوری حل میں ہی پاک بھارت امن و استحکام اور معاشی خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد جس میں شبیر احمد شاہ اور آغاسید حسن الموسوی الصفوی شامل ہیںنے دلی میں مغربی اور اسلامی ممالک کے سفیروں اور سفارت کاروں سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع کیا ۔ اعلیٰ سطحی حریت وفد ان ممالک کے سفیروں اور سفارتکاروں کو مسئلہ کشمیر اور اس مسئلے کی وجہ سے برصغیر ہندو پاک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور کشمیرمیں ابتر سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال سے آگاہ کرے گا ۔ اطلاعات کے مطابق حریت وفد نے اپنی سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر ایس مہدی نبی زادے سے ملاقات کی ۔ دوران ملاقات حریت قائدین نے ایرانی سفیر کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی اس خطے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ حریت (ع)چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے تئیں حکومت ایران اور ایرانی عوام کی حمایت کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور ایران کے درمیان قدیم تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کی ایک تاریخ موجود ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ایران اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرے۔ دریں اثنا ءحریت کانفرنس(ع) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں حریت کانفرنس کے سیاسی اور دستوری موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ کشمیری Read more...

 

پولےس کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے بھر صلاحےت رکھتی ہے ۔ اےس اےم سہائے

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             پولیس کے صوبائی سربراہ نے ملی ٹنسی کے ہنوز باقی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاستی پولیس کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔جرائم کے خاتمے، منشیات کی وباءکا قلع قمع کرنے اور عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنا پولیس کی اوالین ذمہ داری قرار دےتے ہوئے آئی جی کشمیر ایس ایم سہائے نے کہا کہ نشے کی لت اور بری عادتوں میں مبتلا ءنوجوانوں کی فکر وعمل میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی کشمیر کے کپوارہ اور ہندوارہ میں منعقدہ عوامی درباروں سے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس ایم سہائے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رےاستی پولےس کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے بھر پور صلاحےت رکھتی ہے ۔ انہوںنے کشمےر مےں ملی ٹنسی کے باقی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کشمےر قصبہ سوپور مےں ابھی کچھ جنگجو موجود ہےںجن پر پولےس عنقرےب قاپو پائے گی تاہم آئی جی نے اس بات کا اعلان کےا کہ کشمےر وادی مےں ملی ٹنسی کاگراف انتہائی کم ہوا ہے۔ گذشتہ روز سوپور مےں فورسز اور جنگجوو¿ں کے درمےان ہوئی جھڑپ مےں مارے گئے لشکر طبےہ سے وابستہ اےک جنگجو کو بڑی کامےابی سے تعبےر کرتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی سے جنگجو کو کافی دھچکہ لگا ہے ۔ پولےس کی جانب سے عوامی درباروں کے انعقاد کے حوالے سے اےس اےم سہائے نے کہا کہ پولےس درباورں کا مقصد عوام اور پولےس کے درمےان خلا ءکو کم کرنے اور بہتر تال مےل بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے دربار منعقد کرانے سے پولےس اور عوام کے درمےان باہمی رشتہ مضبوط ہوگا اور ےہ کہ عوامی مشکلات کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ان کا ازالہ ترجےحی بنےادوں پر کےا جاسکتا ہے۔ منشےات اور جرائم کے حوالے سے انسپکٹر جنرل آف پولےس اےس اےم سہائے نے کہا کہ منشےات کی وباءکا قلع قمع کرنے ، جرائم کے خاتمے اور عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنا پولےس کی اوالےن ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نشے کی لت Read more...

 

ملازمےن کے تسلےم بقاےا جات کی واگذاری کا مسئلہ

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             ملازمین کے تسلیم شدہ بقایاجات کی واگذاری کیلئے ملازم انجمنوں کا فورم ’جے سی سی‘ پھر متحرک ہوگیا اوراس سلسلے میں فورم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کے روز کمشنر سےکرےٹری فائنانس اور کمشنر سےکرےٹری جنرل اےڈمنسٹرےشن ڈےپارٹمنٹ ملاقات کی،کمشنر سیکریٹری فائنانس نے یقین دہانی کرائی کہ 20فیصد واگذارائرےرس کو مارچ کے مہےنے مےں ملازمےن کے جی پی فنڈ مےں جمع کراےا جائےگا ۔ادھر جے سی سی لیڈارن 27فروری کو سرکار کے نمائندوں کےساتھ ”ملازمین اور سرکار کے درمیان ہوئے معاہدہ“کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔ کشمےر نےوز سروس کے مطابق اےمپلائز جوانٹ اےکشن کمےٹی (ق) کے صدر عبدالقےوم وانی کی صدار ت مےں اےک وفد مستقل ملازمےن ، عارضی ملازمےن ،واگزار اےرےرز اوررےٹائرمنٹ مےں عمر کی حد مےں اضافہ اور دیگر مسائل کے حوالے سے فائنانس کمشنر سےکرےٹری محمد اقبال کھانڈے اور جنرل اےڈمنسٹرےشن ڈےپارٹمنٹ کے کمشنر سےکرےٹری شےخ مشتاق سے جموں مےں ملاقی ہوا جس دوران ملازمےن نمائندو ں نے دونوں کمشنروں کو ملازمےن کے مسائل ، واگزار اےرےرز اوررےٹائرمنٹ مےں عمر کی حد مےں اضافہ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی ۔ مےٹنگ کے دوران دونوں کمشنروں نے ملازمےن نمائندوں کو ےقےن دہانی کرائی کہ سرکار اور ملازمےن کے درمےان ہوئے معاہدے کی عمل آوری کے حوالے سے سرکار سنجےدہ ہے اور اس ضمن مےں ترجےحی بنےادوں پر سرکار اقدامات اٹھارہی ہے جبکہ سرکار اپنے دعوے پر وعدہ بند ہے ۔ مےٹنگ کے حوالے سے تفصےلات فراہم کرتے ہوئے اےجےک (ق) کے صدر عبدالقےوم وانی نے کے اےن اےس کو بتاےا کہ دونوں کمشنروں کے ساتھ ملازمےن نمائندوں کی اچھے ماحول مےں مےٹنگ ہوئی جس دوران ملازمےن نمائندوں نے دونوںکمشنروں کو ملازمےن کے حوالے سے تفصےلات آگاہی فراہم کی ۔ انہو ںنے کہا کہ مےٹنگ کے دوران دونوں کمشنروں نے اس بات کی ےقےن دہانی کرائی کہ ملازمےن کے حوالے سے رےاستی حکومت کی جانب سے Read more...

 

شاعر کشمےر غلام احمد مہجور کے نام ڈاکٹ ٹکٹ اجراء۔ سوز

 

سرینگر/22فروری /کے این ایس /             کانگریس کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے مرکزی حکومت کی طرف سے شاعر کشمیر غلام احمد مہجور کے نام سے ڈاک ٹکٹ اجراءکرنے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں خاصکر شاعر کشمیر غلام احمد مہجور کے شیدائیوں کو اس بات پر مباکباد پیش کی ہے کہ مرکزی سرکار نے شاعر کشمیر کے نام سے ڈاک ٹکٹ اجراءکرنے کے حوالے سے منظوری دی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت امسال کسی بھی وقت یہ ٹکٹ جاری کرسکتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ شاعر کشمیر غلام احمد مہجور کے حوالے سے انہوںنے راجیہ سبھا کے گذشتہ سیشن میں ٹکٹ جاری کرنے کے سلسلے میں سوال اٹھایا تھا اور اس کے بعد انسانی وسائل کے مرکزی وزیر کپل سبل سے بھی اس سلسلے میں بات کی تھی جبکہ انہوںنے ٹکٹ جاری کرنے پر اتفا ق کیا ہے اور یہ کہ امسال کسی بھی وقت یہ ٹکٹ سرینگر میں جاری ہوسکتی ہے ۔

 

 

بجٹ اجلاس کے طوفانی اور ہنگامہ خیز ہونے کا اندیشہ“ ۔ عمر عبداللہ

 

سرینگر/21فروری /کے این ایس /        وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے” بجٹ اجلاس کے طوفانی اور ہنگامہ خیز ہونے کا اندیشہ“ ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن تخریبی ذہن لیکر ایوان میں آنے والی ہے ۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ابھی تک این سی ٹی سی کے معاملے پر مرکزی سرکار کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے اقتصادی ترقی اور مسئلہ کشمیر کو الگ الگ معاملات قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اقتصادی ترقی یا سیاحوں کی کشمیر آمد کامسئلہ کشمیر کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوںنے غلطیوں کو سدھارنے کیلئے احتساب کوبنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب لوگ دلچسپی کے ساتھ حق اطلاع قانون کا استعمال کررہے ہیں۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی قصبہ ماگام ٹنگمرگ میں ایک پاور گرڈ اسٹیشن کا افتتاح کرنے کے بعد حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دو ٹوک الفاظ میں پھر واضح کردیا کہ مسئلہ کشمیر اپنی جگہ ہے اور اقتصادی ترقی اپنی جگہ ۔ انہوںنے بتایا کہ یہ دونوں الگ الگ معاملات ہیں جن کو الگ الگ انداز میں حل کرنا ہوگا۔ تاہم وزیرا علیٰ نے واضح کیا کہ معاملات سیاسی ہوں یا اقتصادی دونوں صورتوںمیں امن بنیادی ضرورت ہے کیونکہ قیام امن کے بغیر نہ تو سیاسی معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی اقتصادی مشکلات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پھر ایک مرتبہ کہا کہ اقتصادی ترقی یا سیاحوں کی بھاری تعداد کا کشمیر آمد کامسئلہ جموں وکشمیر کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اقتصادی ترقی اور سیاحوں کی آمد معاشی معاملات ہیں جبکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے عوام پر زور دیا کہ وہ قیام امن کی کوششوںمیں حکومت کو پورا تعاون فراہم کریں تاکہ امن وامان کے ماحول میں حکومت عوام کے مطالبات اور مشکلات کا بروقت ازالہ کرسکے ۔ انہوںنے کہا کہ بدامنی کے نتیجے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے یہ عوام اور ارباب اقتدار کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ قیام امن کی کوششوںمیں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں ۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاستی سرکار نے ریاست کے تینوں خطوں میں اقتصادی ترقی کو ایک نئی جہت دینے کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کی اسکیموں پر عمل درآمد جاری رکھا ہے ۔ ریاست کی اقتصادی ، معاشی اور مالی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کو مختلف ذرائع سے سالانہ 6500کروڑ روپے کی آمدن حاصل ہوتی ہے جبکہ سرکار کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں پر سالانہ 12500کروڑ روپے صرف کرنا پڑتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس میں بجلی کی سپلائی پر آنے والا 2ہزار کروڑ روپے کا خسارہ بھی شامل ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایسی حالت میں ریاستی سرکار کیلئے یہ بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ مختلف علاقوں کے لوگوںکی مانگوں پر عمل درآمد کرسکے Read more...

 

اودیات کی نئی پالیسی3سال تک مشاورت کے بعد منظر عام پر لائی گئی ۔ سرکار

 

سرینگر/20فروری/کے اٰین ایس /            ریاستی سرکار نے ”ڈرگ پالیسی“ کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اودیات کی نئی پالیسی3سال تک مشاورت کے بعد منظر عام پر لائی گئی جبکہ بعد میں 6ماہ تک کیلئے اس کو”الملک العام“ رکھا گیا۔اس دوران ڈاکٹروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رکھے کہ وہ ایک مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس دوران محکمہ صحت نے نجی نرسنگ ہوموں اور اسپتالوں میں مختلف اقسام کی جراحی کیلئے ریٹ لسٹ جاری کیا۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق ریاستی کابینہ کی طرف سے حال ہی میں ”ڈرگ پالیسی“ کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد نجی سیکٹر میں ادویات فروشوں کی طرف سے اس پالیسی کے خلاف زبردست احتجاج ہو ا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس میں ترمیم لائی جائے۔اس دوران ریاستی حکومت اس پالیسی کے دفاع میں آئی ہے اور”ڈرگ پالیسی“کواہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو عوام کی بھلائی کیلئے متعارف کیا گیا ہے۔سرینگر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سام لال شرما نے کہا کہ ڈرگ پالیسی ریاست میں1952سے ہی ہونی چاہی تھی جب ریاست کا آئین تشکیل دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کو نقائص سے محفوط رکھنے کیلئے3برسوں کا وقت لگا جبکہ اس دوران ملک بھر سے87ماہرین نے اس پر کام کیا اور اپنے مشاورت سے نوازا اور یہ کہ اس حوالے سے6ماہ تک اس کو عوام کے سامنے بھی رکھا گیا تاکہ اس میں سے نقائص کو باہر نکالا جائے اور مجموعی طور پر اس پالیسی کو عوام دوست بنایا جائے۔وزیر صحت نے کہا کہ اس دوران سیول سوسائٹی سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور انہوں نے بھی کئی ایک تجاویز دی جن کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا جس کے بعد کابینہ نے باضابطہ طور پر ”ڈرگ پالیسی“ کو منظوری دی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس پالیسی میں ہر2سالوں کے بعد جایزہ لیا جائے گا اور ترمیمات ہو سکتی ہیں۔پریس کانفرنس میں موجود نمائندے کے مطابق شال لال شرما نے اس بات کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ ”ڈرگ پالیسی“ کو ترتیب دیتے وقت ہر ایک طبقے کے جذبات کو ملحوظ نظر رکھا گیا جس کے بعد ہی ”ادویات کی پالیسی“ کو مرتب کیا گیا۔ ”ڈرگ پالیسی“ کو ریاستی عوام اور صحت عامہ کیلئے ایک اہم جز قرار دیتے ہوئے وزیرصحت شام لال شرما نے کہا کہ ماہرین پر مشتمل”سٹیٹ ڈرگ کمیٹی“ ہر 2سال بعد اہم اور ضروری ادویات کا مشاہدہ کرے گی اور اس کا جایزہ لینے کی سفارش بھی کریے گی۔انہوںنے کہا کہ ”ڈرگ پالیسی“ کی وجہ سے مریضوں کو سستے اور مناسب داموں پر ادویات فراہم ہوگی اور ان ڈاکٹروں کے طرز عمل پر بھی روک لگے گی جو صرف مخصوص کمپنیوں کے ادویات کا مشورہ دیتے ہیں۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کچھ ڈاکٹر اپنے ذاتی فائدے کیلئے کچھ مخصوص کمپنیوں کے ہی ادویات لکھتے ہیں اور مذکورہ کمپنیوں سے موٹی موٹی رقمیں وصول کرتے ہیں جس کی وجہ سے Read more...